علامہ اقبال
Allama Iqbal
شاعرِ مشرق، مفکر اور فلسفی؛ خودی، عمل، امید اور بیداری کا پیغام۔
خودی کی بلندی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Read
ستاروں سے آگے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Read
لب پہ آتی ہے دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
Read
تو شاہین ہے
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Read
عمل سے زندگی
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
Read